چشم نم سے شرار کے مانند
چشم نم سے شرار کے مانند
اشک بہتے ہیں دھار کے مانند
خوش نصیبوں کے بیچ رہتے ہیں
ہم مقدر فگار کے مانند
کیوں دریچوں سے جھانکتا ہے چاند
رات بھر میرے یار کے مانند
عارضی ہے ہنسی مرے لب کی
چمچماتے غبار کے مانند
جگمگاتی نہیں ہیں اب آنکھیں
گوہر آبدار کے مانند
ہم جنہیں گلبدن سمجھتے ہیں
چبھنے لگتے ہیں خار کے مانند
وصل میں لطف ذکر یار کہاں
ہجر کے انتظار کے مانند
دل کا گلشن اجڑنے والا ہے
کوئی آئے بہار کے مانند
گل بھی تڑپے گا ایک دن ناصرؔ
بلبل بے قرار کے مانند
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.