Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بہتی آنکھوں سے تھک کر کے سوئے ہوئے

سچن شکلا مسافر

بہتی آنکھوں سے تھک کر کے سوئے ہوئے

سچن شکلا مسافر

MORE BYسچن شکلا مسافر

    بہتی آنکھوں سے تھک کر کے سوئے ہوئے

    ایک عرصہ ہوا اب تو روئے ہوئے

    وہ نمی وہ اداسی وہ دور اور تھا

    اک زمانہ ہوا اس کو کھوئے ہوئے

    ایک بوڑھا درخت آج پھر گر گیا

    چھاؤں سے تھا جو سب کو پروئے ہوئے

    راہ تکتا رہا اپنے بیٹوں کی وہ

    بوڑھے سپنوں کو کندھے پہ ڈھوئے ہوئے

    آؤ بیٹھو کہیں کچھ عبادت کریں

    ایک مدت ہوئی پاپ دھوئے ہوئے

    اے مسافرؔ یہ محفل رقیبوں کی ہے

    کیسے گزرو گے آنکھیں بھگوئے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے