بارہا اس بزم میں ہم بن کے بیگانے گئے
بارہا اس بزم میں ہم بن کے بیگانے گئے
لاکھ چپ بیٹھے مگر نظروں سے پہچانے گئے
شمع کی لو سے لپٹ کر جل بجھے تو کیا ہوا
بزم کو کچھ روشنی ہی دے کے پروانے گئے
اب شریک غم ہیں وہ بھی ان کی آنکھیں بھی ہیں نم
دیکھ چشم تر کہاں تک تیرے افسانے گئے
اس گلی سے ہو کے گزرے تھے کبھی دیوانہ وار
پھر جدھر بھی ہم گئے ہمراہ ویرانے گئے
کس قدر کیف آفریں تھا نشہ صہبائے عشق
وہ نظر اٹھی ادھر ہاتھوں سے پیمانے گئے
لائق پرسش نہ تھے لیکن چلا جب دور جام
واقف آداب مے خانہ ہمیں مانے گئے
کون اے اقبالؔ یوں ہم کو یہاں پہچانتا
اپنی خوشبو ہی سے ہم گلشن میں پہچانے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.