اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا رہ سیلاب میں تھے
اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا رہ سیلاب میں تھے
ہائے وہ لوگ کہ جو اطلس و کم خواب میں تھے
لٹ گئے صبح کے ہوتے ہی وگرنہ شب بھر
کیا حسیں خواب مرے دیدۂ بے خواب میں تھے
جھک گئے بار تمنا سے کماں کی صورت
ولولے کتنے وگرنہ دل بے تاب میں تھے
رات بھر آنچ جنہیں اپنے بدن سے آئی
نار دوزخ میں تھے وہ یا شب مہتاب میں تھے
ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقۂ احباب میں تھے
شب تیرہ بھی اجالوں سے تھی روشن محسنؔ
کتنے خورشید مرے دیدۂ پر آب میں تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.