Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا رہ سیلاب میں تھے

محسن احسان

اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا رہ سیلاب میں تھے

محسن احسان

MORE BYمحسن احسان

    اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا رہ سیلاب میں تھے

    ہائے وہ لوگ کہ جو اطلس و کم خواب میں تھے

    لٹ گئے صبح کے ہوتے ہی وگرنہ شب بھر

    کیا حسیں خواب مرے دیدۂ بے خواب میں تھے

    جھک گئے بار تمنا سے کماں کی صورت

    ولولے کتنے وگرنہ دل بے تاب میں تھے

    رات بھر آنچ جنہیں اپنے بدن سے آئی

    نار دوزخ میں تھے وہ یا شب مہتاب میں تھے

    ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے

    ہائے کیا لوگ مرے حلقۂ احباب میں تھے

    شب تیرہ بھی اجالوں سے تھی روشن محسنؔ

    کتنے خورشید مرے دیدۂ پر آب میں تھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے