ایسی چپ میں لب اظہار کا جادو تو ہے
ایسی چپ میں لب اظہار کا جادو تو ہے
مصرعۂ میرؔ ہے پروین کی خوشبو تو ہے
پھر تری یاد کی امڑی ہے اداسی مجھ میں
پھر مری آنکھ میں آیا ہوا آنسو تو ہے
یہ جو میں شعر سہولت سے لکھے جاتا ہوں
کیوں نہ لکھوں کہ مری جاں مری اردو تو ہے
دوڑتے پھرتے ہیں عشاق دوانوں کی طرح
بچ کے جائیں گے کہاں جب کہ ہر اک سو تو ہے
تجھ میں جو بیٹھ کے میں کھینچ رہا ہوں چلہ
کیوں نہ کھینچوں کہ مرا حجرۂ باہو تو ہے
ایک چہرہ جو تخیل میں رہا ہے برسوں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں جس کو وہی خوشرو تو ہے
میرے کس کام کے یہ ورد وظیفے عدنانؔ
کوئی بھی توڑ نہیں جس کا وہ جادو تو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.