Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آب دیدہ جب انہیں چھوڑ کے جانا ہوگا

اقبال صفی پوری

آب دیدہ جب انہیں چھوڑ کے جانا ہوگا

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    آب دیدہ جب انہیں چھوڑ کے جانا ہوگا

    وہ زمانہ بھی قیامت کا زمانہ ہوگا

    نفرتوں سے تو خلاف اور زمانہ ہوگا

    دوست بننے کے لیے دوست بنانا ہوگا

    جی نہ ٹھہرا تو بہر حال ملیں گے ان سے

    شکوۂ جور و تغافل تو بہانہ ہوگا

    آخر اب کیوں ہیں وہ بیتاب مراسم اتنے

    ان کے سینے میں کوئی رنج پرانا ہوگا

    کہیں بے ترک کدورت بھی ملے ہیں دو دل

    در بنانا ہے تو دیوار کو ڈھانا ہوگا

    ہے نیا موڑ اندھیروں کا بڑا صبر طلب

    اب چراغوں کی طرح دل بھی جلانا ہوگا

    تیرے کوچے میں اگر چھاؤں میسر نہ ہوئی

    پھر کہاں درد کے ماروں کا ٹھکانا ہوگا

    رشتۂ دل تو نہ ٹوٹے گا تری محفل سے

    ہم نہ ہوں گے تو محبت کا فسانہ ہوگا

    ہم کو تجدید ملاقات سے کب ہے انکار

    لیکن اب پہلے انہیں ہاتھ بڑھانا ہوگا

    حال دل ان کو سنایا بھی تو کیا حاصل ہے

    یوں بھی دل اپنے ہی تیروں کا نشانہ ہوگا

    در محبوب ہے اپنا تو کنارا اقبالؔ

    بے سہارا ہوئے تو ڈوب کے جانا ہوگا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے