آب دیدہ جب انہیں چھوڑ کے جانا ہوگا
آب دیدہ جب انہیں چھوڑ کے جانا ہوگا
وہ زمانہ بھی قیامت کا زمانہ ہوگا
نفرتوں سے تو خلاف اور زمانہ ہوگا
دوست بننے کے لیے دوست بنانا ہوگا
جی نہ ٹھہرا تو بہر حال ملیں گے ان سے
شکوۂ جور و تغافل تو بہانہ ہوگا
آخر اب کیوں ہیں وہ بیتاب مراسم اتنے
ان کے سینے میں کوئی رنج پرانا ہوگا
کہیں بے ترک کدورت بھی ملے ہیں دو دل
در بنانا ہے تو دیوار کو ڈھانا ہوگا
ہے نیا موڑ اندھیروں کا بڑا صبر طلب
اب چراغوں کی طرح دل بھی جلانا ہوگا
تیرے کوچے میں اگر چھاؤں میسر نہ ہوئی
پھر کہاں درد کے ماروں کا ٹھکانا ہوگا
رشتۂ دل تو نہ ٹوٹے گا تری محفل سے
ہم نہ ہوں گے تو محبت کا فسانہ ہوگا
ہم کو تجدید ملاقات سے کب ہے انکار
لیکن اب پہلے انہیں ہاتھ بڑھانا ہوگا
حال دل ان کو سنایا بھی تو کیا حاصل ہے
یوں بھی دل اپنے ہی تیروں کا نشانہ ہوگا
در محبوب ہے اپنا تو کنارا اقبالؔ
بے سہارا ہوئے تو ڈوب کے جانا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.