- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شفیق الرحمان کے طنز و مزاح
کلید کامیابی
ہم لوگ خوش قسمت ہیں کیونکہ ایک حیرت انگیز دور سے گزر رہے ہیں۔ آج تک انسان کو ترقی کرنے کے اتنے موقعے کبھی میسر نہیں ہوئے، پرانے زمانے میں ہرایک کو ہرہنرخود سیکھنا پڑتا تھا، لیکن آج کل ہر شخص دوسروں کی مدد پر خواہ مخواہ تلا ہوا ہے اوربلاوجہ دوسروں
سماج
بچپن میں بھوتوں پریتوں کی فرضی کہانیاں سننے کے بعد جب سچ مچ کی کہانیاں پڑھیں تو ان میں عموماً ایک مشکل سا لفظ آیا کرتا۔ سب کچھ سمجھ میں آجاتا، لیکن وہ لفظ سمجھ میں نہ آتا۔ وہ دن اور آج کا دن، اس لفظ کا پتہ ہی نہ چل سکا۔ وہ لفظ ہے، ’’سماج۔‘‘ یوں تو یہ
ہماری فلمیں
ہماری فلموں سے مراد وہ فلمیں ہیں جو ملکی ہیں۔ جن میں ہماری روزانہ زندگی کے نقشے کھینچے جاتے ہیں۔ جن میں ہماری برائیاں اور کمزوریاں بے نقاب کی جاتی ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ہماری فلموں نے اتنے تھوڑے سے عرصے میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ چند ہی سال کی بات
مکان کی تلاش میں
مکان کی تلاش۔۔۔ ایک اچھے اور دل پسند مکان کی تلاش۔۔۔ دنیا کے مشکل ترین امور میں سے ہے۔ تلاش کرنے والے کا کیا کیا جی نہیں چاہتا۔ مکان حسین ہو۔ جاذب نظر ہو۔ آس پاس کا ماحول روح پرور اور خوشگوار ہو۔ سنیما بالکل نزدیک ہو۔ بازار بھی دور نہ ہو۔ غرض بیچ میں
کلب
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میں ہر شام کلب جایا کرتا تھا۔ شام کو بلیرڈ روم کا افتتاح ہو رہا ہے۔ چند شوقین انگریز ممبروں نے خاص طور پر چندہ اکٹھا کیا۔۔۔ ایک نہایت قیمتی بلیرڈ کی میز منگائی گئی۔ کلب کے سب سے معزز اور پرانے ممبر رسم افتتاح ادا کر رہے ہیں۔ پہلے
فلاسفر
آخر اس گرم سی شام کو میں نے گھر میں کہہ دیا کہ مجھ سے ایسی تپش میں نہیں پڑھا جاتا۔ ابھی کچھ اتنی زیادہ گرمیاں بھی نہیں شروع ہوئی تھیں۔ بات دراصل یہ تھی کہ امتحان نزدیک تھا اور تیاری اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ یہ ایک قسم کا بہانہ تھا۔ گھر بھر میں صرف مجھے
بلڈ پریشر
’’میرا بلڈپ ریشر۔۔۔‘‘ شیطان نے پھر شروع کیا۔ ’’درست ہے۔‘‘ مقصود گھوڑے نے پھر ان کی بات کاٹ دی۔ ’’ہوا یہ کہ آج صبح جو میں اٹھ کر دیکھتا ہوں تو کائنات میرے لیے سنوری ہوئی تھی۔ سورج میرے لیے ضرورت سے زیادہ چمک رہا تھا اور اپنی چمکیلی اور سنہری شعاعیں
تعویذ
چار بجے شیطان چائے پینے آئے۔ جب ہم پی کر باہر نکلے تو دفعتاً انہیں محسوس ہوا کہ چائے ٹھنڈی تھی، چنانچہ ہم ان کے ہوسٹل گئے۔ وہاں کھولتی ہوئی چائے پی گئی، لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے۔ منہ بنا کر بولے کہ یہ چائے بھی نامکمل رہی، کیونکہ اس کے ساتھ لوازمات نہیں
مشورے
(ریڈیو کا ایک فیچر) اناؤنسر، خواتین و حضرات! اس مہینے ہمیں طرح طرح کے مشورے موصول ہوئے۔ پہلے تو ہم ہچکچائے، لیکن چونکہ جدت کو ہر جگہ پسند کیا جاتا ہے اس لیے انہیں پیش کرتے وقت ہمیں ذرا بھی تامل نہیں ہے۔ خود ہی سوچیے جہاں ایک کرکٹ کا میچ نشر ہو
شیطان
اس رات اتفاق سے میں نے شیطان کو خواب میں دیکھ لیا۔ خواہ مخواہ خواب نظر آگیا۔ رات کو اچھا بھلا سویا تھا، نہ شیطان کے متعلق کچھ سوچا نہ کوئی ذکر ہوا۔ نہ جانے کیوں ساری رات شیطان سے باتیں ہوتی رہیں اور شیطان نے خود اپنا تعارف نہیں کرایا کہ خاکسار کو شیطان
بڑی آپا
وہ بھیا کے ساتھ اکثر ہمارے ہاں آیا کرتا تھا۔ کئی سال سے دونوں ساتھ پڑھتے تھے۔ پہلے پہل بھیا جب اس کی باتیں کیا کرتے تو میرے دل میں گدگدی سی ہونے لگتی۔ وہ بڑے فخر سے سینہ پھلا کر کہتے۔ آج رفیق نے یہ کیا، وہ کیا، اتنے نمبر لیے۔ فلاں کھیل میں حصہ لیا۔ ویسے
ڈرپوک
اتنے دنوں کے بعد آج صبح موٹرسائیکل کو ہاتھ لگایا۔ اسے چلاتے وقت جیسے ٹھٹک کر رہ گیا اور نظریں سامنے کی کھڑکیوں کی جانب چلی گئیں۔ آج سے کئی سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ بالکل ایسی ہی رنگین صبح تھی۔ گلاب کے تختے بالکل سرخ ہو رہے۔ شبنم کے چمکیلے قطروں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
