وقت
یہ ننھی سی گڑیا
جسے دو برس ہو گئے ہیں میں جاپان سے لے کے آیا
یہ رقاصہ رنگین کپڑوں میں ملبوس
اسی ایک انداز میں دو برس سے کھڑی ہے
نہ پلو ہی سرکا
نہ ہاتھوں سے رومال رنگیں ہی چھوٹا
نہ سر سے یہ تاج سرافرازی و کج کلاہی ہٹا
اس کا ویسا ہی معصوم چہرہ
وہی زیر لب مسکراہٹ
وہی قوس ابرو
وہی چشم بینا
جواں جاوداں
یہ گڑیا یہ رقاصہ یہ وقت کا نقطۂ مرکزی
جس کے پیہم رواں ان گنت دائروں میں
پریشان و آوارہ پھرتا رہا ہوں
مرا چہرہ اک داستاں ہے
مری عمر رفتہ کی
آوارگی کی
مگر فاصلہ ہے کہ ویسے کا ویسا رہا
میرے کمرے میں یہ آج بھی میرے نزدیک اتنی ہے
جتنی کوئی دو برس قبل تھی
فرق اتنا ہے
یہ وقت کا نقطۂ مرکزی
اور میں وقت کے دائروں میں اسیر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.