Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قفس پر اشعار

مجھ سے قفس کا دروازہ کیا ٹوٹے گا

پاؤں پڑی زنجیر میں کھوئی رہتی ہوں

ریشما زیدی

سر کو قفس پہ رکھے صیاد کہہ رہا ہے

بلبل کی جان نکلا اجڑا سا آشیانہ

بیخود موہانی

گلشن میں اپنا کون تھا ساتھی نہ آشیاں

رکھ لی قفس نے آبرو فصل بہار میں

واصف علی واصف

سوال یہ ہے کہ دشت بدن کا کیا ہوگا

اگر جنوں کا پرندہ قفس میں آیا نئیں

عاقب صابر

دیکھی قفس سے جا کے چمن میں جفائے چرخ

سب کے تو آشیاں تھے مرا آشیاں نہ تھا

افقر موہانی

قفس کی چار دیواری میں اب میں مطمئن ہوں

حوادث صاحب اولاد بھی ہو جائیں تو کیا

محمد سلیم طاہر

قفس کے خوف نے جکڑی ہوئی ہے رونق جاں

وجود کرب مسلسل فرار چاہتا ہے

زروا رائے
بولیے