نزاکت پر اشعار
نزاکت محبوب کی ایک اہم
صفت ہے ۔ شاعروں نے محبوب کی اس صفت کا بیان مبالغہ آمیز انداز میں کیا ہے اور اپنے تخیل کی زرخیزی کا ثبوت دیا ہے ۔ نزاکت سے محبوب کے حسن کا حد درجہ اظہار بھی مقصود ہوتا ہے ، ہمارا یہ انتخاب محبوب کی نزاکت کے حوالے سے آپ کے تمام تصورات کو توڑ دے گا ۔ آپ اسے پڑھئے اور محبوب کی ایک نئی تصویر ملاحظہ کیجئے ۔
آپ کی نازک کمر پر بوجھ پڑتا ہے بہت
بڑھ چلے ہیں حد سے گیسو کچھ انہیں کم کیجئے
اللہ رے اس گل کی کلائی کی نزاکت
بل کھا گئی جب بوجھ پڑا رنگ حنا کا
ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی
نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے
اللہ رے نازکی کہ جواب سلام میں
ہاتھ اس کا اٹھ کے رہ گیا مہندی کے بوجھ سے
محبت پھول بننے پر لگی تھی
پلٹ کر پھر کلی کر لی ہے میں نے
نزاکت اس گل رعنا کی دیکھیو انشاؔ
نسیم صبح جو چھو جائے رنگ ہو میلا
خواب میں آنکھیں جو تلووں سے ملیں
بولے اف اف پاؤں میرا چھل گیا