محنت پر اشعار
انسانی زندگی کی تمام
بہاریں جد وجہد اور محنت پر ہی منحصر ہوتی ہیں ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ’’ جیسا بونا ویسا کاٹنا ‘‘ یہ محاورہ انسانی طریقۂ زندگی کی اسی سچائی کو واضح کرتا ہے ۔ ہمارے منتخب کردہ ان اشعار میں محنت کو زندگی گزارنے کے ایک عمومی عمل کے طور پر بھی موضوع بنایا گیا ہے اور اسے ایک فلسفیانہ ڈسکورس کے طور پر بھی برتا گیا ہے ۔ ان اشعار کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ان کو پڑھنے سے زندگی کرنے کے عمل میں محنت کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے ۔
محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو
بے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی
عظمت محنت سے ملتی ہے؛ دنیا میں نگیں کی قدر بھی کوشش سے بنتی ہے۔
بغیر دل و جان کی محنت کے کسی کو کبھی ناموری نہیں ملتی۔
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بڑائی اور عزت محض نصیب کی دین نہیں، بلکہ محنت کا پھل ہے۔ “نگیں” انسان کی صلاحیت کا استعارہ ہے جو تراش خراش اور کاوش سے قیمتی بنتی ہے۔ “کاوشِ سینہ” سے مراد خلوص کے ساتھ کی گئی سخت جدوجہد ہے۔ مطلب یہ کہ دنیا میں نام تبھی ہوتا ہے جب آدمی خود کو کھپا دے۔
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا
دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا
اک جست میں تو کوئی نہ پہنچا کمال تک
اک عمر سر کھپا کے ہی جو کچھ ملا ملا
-
موضوع : کوشش
لوگ کردار بننا چاہتے ہیں
جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے
-
موضوع : کوشش