بہادر شاہ ظفر
غزل 52
اشعار 64
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کتاب 70
تصویری شاعری 14
آڈیو 23
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
تفتہ_جانوں کا علاج اے اہل_دانش اور ہے
دیگر شعرا کو پڑھیے
-
مصحفی غلام ہمدانی
-
مرزا غالب
-
مومن خاں مومن
-
انشا اللہ خاں انشا
-
شیخ ابراہیم ذوقؔ
-
جوشش عظیم آبادی
-
میر کلو عرش
-
عبدالرحمان احسان دہلوی
-
سخی لکھنوی
-
نظیر اکبرآبادی
-
ممنون نظام الدین
-
شاہ نصیر
-
باقر آگاہ ویلوری
-
حاتم علی مہر
-
رند لکھنوی
-
آصف الدولہ
-
سید یوسف علی خاں ناظم
-
ولی اللہ محب
-
زین العابدین خاں عارف
-
غمگین دہلوی