غزل کی علامتوں میں بغاوت: حسرت موہانی کا سیاسی تغزل
حسرت موہانی نے غزل کی روایتی عشقیہ علامتوں اور رمز و ایما کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے باغیانہ اور سیاسی جذبات کا نہایت خوبصورتی سے اظہار کیا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
حسرت موہانی نے غزل کی روایتی عشقیہ علامتوں اور رمز و ایما کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے باغیانہ اور سیاسی جذبات کا نہایت خوبصورتی سے اظہار کیا۔