کیا صاحبِ ذوق قاری کا کوئی وجود ہے؟
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق 'صاحبِ ذوق قاری' ایک فرضی تصور ہے جسے نقاد اپنی کم فہمی چھپانے اور مشکل شاعری کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
Added to your favorites
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق 'صاحبِ ذوق قاری' ایک فرضی تصور ہے جسے نقاد اپنی کم فہمی چھپانے اور مشکل شاعری کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کلاسیکی غزل میں انشائیہ (استفہامیہ) انداز کو خبریہ انداز پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ یہ شعر میں معنی کے لامحدود امکانات پیدا کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ ذوق بدلتا ہے، لیکن کلاسیکی مضامین کو محض سماجی دباؤ یا جدیدیت کی بنا پر مسترد کرنا غیر تنقیدی رویہ ہے۔
اردو اور ہندی زبانوں کی ابتدا، انڈک زبان سے لے کر اپ بھرنشوں اور غزنوی دور میں 'ہندوی' کے ظہور تک کا تاریخی اور لسانی سفر۔
اردو اور ہندی میں مشترک محاوروں، ضرب الامثال اور مرکب الفاظ کا جائزہ، جو دونوں زبانوں کی گہری تہذیبی قربت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ مضمون اس تنقیدی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ ایک عظیم شاعر اپنے پیچھے مقلدین کا کوئی اسکول نہیں چھوڑتا، بلکہ اس کے فوراً بعد آنے والے شعرا اس کے اسلوب سے شعوری یا غیر شعوری طور پر فرار اختیار کرتے ہیں۔
یہ مضمون اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ کیا فیض کی سیاسی شاعری وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت کھو دے گی، اور واضح کرتا ہے کہ ان کا جمالیاتی رچاؤ انہیں لازوال بناتا ہے۔
مرزا غالب کی شخصیت میں ظرافت اور حاضر جوابی اس قدر رچی بسی تھی کہ الطاف حسین حالی نے انہیں 'حیوانِ ناطق' کے بجائے 'حیوانِ ظریف' کہنا زیادہ مناسب سمجھا۔
مرزا غالب کی غذائی عادات نہایت مخصوص تھیں، جن میں گوشت کا استعمال لازمی تھا، لیکن پھلوں میں آم کے لیے ان کی دیوانگی ضرب المثل بن چکی ہے۔
کسی بھی شعر کے تمام ممکنہ مطالب اور شاعر کے اصل عندیے تک مکمل رسائی حاصل کرنا کسی بھی قاری کے لیے ناممکن ہے۔
آپ کو باقاعدگی سے کچھ حاصل کرنا ہے لیکن اس کے علاوہ آپ کسی بھی ای میل کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔