بیسویں صدی کے اردو شعرا میں میراجی وہ پہلے شخص تھے جنہیں سگمنڈ فرائڈ کے نظریات اور تحلیلِ نفسی کے طریقِ کار کا اتنا گہرا علم تھا کہ وہ ان کی روشنی میں شعری اظہار کی تعبیر و تفسیر کر سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب 'اس نظم میں' کے اندر بیشتر تخلیقات کا تجزیہ اسی طریقِ کار کی مدد سے کیا ہے۔ میراجی کا شعری اور تنقیدی رویہ اس بات کا غماز ہے کہ انہوں نے شاعری کو محض قافیہ پیمائی کے بجائے انسانی لاشعور کی گتھیوں کو سلجھانے کا ذریعہ بنایا۔
میراجی کا تخلیقی سفر دراصل 'تلاشِ ذات' کا سفر تھا۔ اس سفر میں وہ انیسویں صدی کے فرانسیسی اشاریت پسندوں (Symbolists) جیسے بودلیئر اور ملارمے سے بے حد متاثر ہوئے۔ ملارمے کے حوالے سے میراجی نے ایک معنی خیز بات لکھی تھی کہ وہ خواب اور حقیقت کو ایک دوسرے میں اس طرح آمیز کر دینا چاہتا تھا کہ دونوں کے مابین فرق باقی نہ رہے۔ میراجی نے بھی اسی طرزِ احساس سے اپنا شعری اصول وضع کیا۔ ان کے نزدیک مجرد حقیقتیں دو ٹوک لسانی پیکروں میں منتقل نہیں ہو سکتیں، جبکہ اشارے اور علامتیں سوئے ہوئے خوابوں کو بھی جگا سکتی ہیں۔
نفسیاتی تحلیل کے مطالعے سے میراجی پر یہ بھید کھلا تھا کہ علامت اور اشارات خیال کی سب سے بڑھ کر اور 'آپ روپی' صورت ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ نیند اور بیداری کے خوابوں میں علامت اور استعارے کی زبان ایک ایسا بے ساختہ ذریعہ اظہار ہے جو احساسات پر کسی قسم کے بندھن نہیں ڈالتا۔ ہر سچے فنکار کی طرح وہ جانتے تھے کہ فن حقیقت کی مشہود شکلوں کا عکسِ محض نہیں ہوتا، بلکہ فنکار اپنے انفرادی رویے کی روشنی میں گرد و پیش کی دنیا کو پھر سے خلق کرتا ہے۔
میراجی نے مروجہ اور زنگ خوردہ لسانی سانچوں کی اطاعت سے انکار کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ الفاظ مستعمل ہونے کے بعد اپنی مرضی کے مطابق معنی کی ترسیل کرتے ہیں اور اپنے مروجہ انسلاکات کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے خیال کی آزادی کی بنیاد پر نئے تلازمات تراشے۔ انہوں نے جسم اور روح کے سنجوگ، یا حقیقت اور خواب کے ادغام سے ایک ایسی دنیا تخلیق کی جو ارضِ خاک کی آلودگیوں سے آزاد بھی تھی، لیکن آسمان کی طرح منزہ بھی نہیں تھی۔
میراجی کی اس خیال پرستی اور علامتی پیچیدگی کو اکثر ناقدین نے نیوراتیت (Neurosis) یا دیوانگی قرار دیا۔ لیکن جیسا کہ فیض احمد فیض نے بجا طور پر نشان دہی کی تھی، میراجی نے تنقیدی جانچ پرکھ کے لیے جذب و وجدان کے بجائے عقل و شعور کا انتخاب مجبوری سے نہیں، پسند اور ارادے سے کیا تھا۔ میراجی نے نیم شعوری یا لاشعوری تجربوں کی بازیافت شعور ہی کی مدد سے کی، اور ان کی پیچیدگی دراصل انسانی وجود کی ان گتھیوں کا پتا دیتی ہے جو ازل سے انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔
