انسانی ذہن ایک ایسا پیچیدہ کارخانہ ہے جہاں ہر لمحہ بے شمار شعوری اور تحت الشعوری تاثرات جمع ہوتے رہتے ہیں۔ فراق گورکھپوری کے ایک نہایت بصیرت افروز تجزیے کے مطابق، یہ تاثرات جب تک خام حالت میں رہتے ہیں، انسانی روح کے اندر ایک عالمِ انتشار برپا کیے رکھتے ہیں۔ یہ غیر منظم، ادھورے اور ناقص تاثرات انسان کی داخلی زندگی میں ایک خاموش ہیجان اور بے چینی کا سبب بنتے ہیں۔ جس طرح جسمانی بدہضمی انسان کو بے چین کر دیتی ہے، اسی طرح یہ ذہنی تاثرات روحانی بدہضمی پیدا کرتے ہیں، جس سے زندگی کا توازن، سکون اور شگفتگی غارت ہو جاتی ہے۔
اس داخلی انتشار کا علاج مادی آسائشوں میں پوشیدہ نہیں ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو بظاہر خوشحال ہیں، جن کی زندگیاں خارجی ناخوشگوار واقعات سے محفوظ ہیں، جو صاحبِ ثروت اور توانا ہیں، وہ بھی رہ رہ کر ایک نامعلوم اداسی، ناآسودگی اور داخلی گھٹن کا شکار رہتے ہیں۔ اس بے نام نقص اور بے کیفی کا اصل سبب وہی تحت الشعوری انتشار ہے جو تنظیم اور توازن کا متلاشی ہوتا ہے۔
یہاں فنون لطیفہ، بالخصوص شاعری اور موسیقی، انسانی روح کے مسیحا بن کر سامنے آتے ہیں۔ فنون لطیفہ کی اصل غرض و غایت ہی زندگی کو یہ داخلی صحت بخشنا ہے۔ جب یہ منتشر تاثرات وجدان کی بھٹی میں تپ کر متوازن اور منظم ہوتے ہیں، تو ہماری داخلی زندگی میں پوری اکائیاں تشکیل پاتی ہیں۔ فنون لطیفہ اس ذہنی ہیجان کو ایک لطیف ہم آہنگی میں بدل دیتے ہیں۔
خوش نصیب سے خوش نصیب انسان کو بھی اپنے جذبات کی تسکین کے لیے عشقیہ نغموں اور لطیف فنون کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ فراق صاحب کا یہ دعویٰ بالکل بجا ہے کہ پوری انسانی تہذیب و تمدن، اپنے تمام تر خارجی طمطراق اور مادی ترقی کے باوجود، فنون لطیفہ کی محتاج ہے۔ اگر معاشرے سے فنون لطیفہ کو نکال دیا جائے تو تمدن بیمار پڑ جاتا ہے اور انسان ایک نہیں بلکہ سیکڑوں نفسیاتی اور روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ فنون لطیفہ ہی وہ واحد راستہ ہیں جو انسان کے داخلی انتشار کو سکون اور طمانیت کے سدا بہار چشموں سے متعارف کراتے ہیں۔
