منٹو کے افسانوں کی تاریخیت، سماجی معنویت اور معاشرتی سیاق پر ضرورت سے زیادہ اصرار اکثر اس کے فن کی اصل روح کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ محققہ معلومات کے مطابق، منٹو نے اپنی محدود اور مختصر تخلیقی زندگی میں کل دو سو اڑتیس افسانے، پینسٹھ ڈرامے اور چوبیس خاکے لکھے۔ ان میں اعلیٰ درجے کی تخلیقات کا تناسب شاید بہت زیادہ نہ ہو، لیکن منٹو کی منتخب تحریروں میں ایک عجیب و غریب بے ساختگی ہے۔ یہ کہانیاں ایسے محسوس ہوتی ہیں جیسے وہ بغیر کسی بیرونی کاوش کے بس اپنے آپ پھوٹ پڑی ہوں، بالکل سبز شاخ پر نئی کونپلوں کی طرح۔
منٹو کی اصل ہنرمندی اس کی سادہ کاری، اس کے برتاؤ اور اس کے طرز اظہار میں پوشیدہ ہے۔ تاریخ اور سیاست کی وضع کردہ سچائیوں کو وہ اپنے شعور کی راہ سے پرے دھکیل کر کس طرح ایک نئی اور دائمی سچائی میں منتقل کرتا ہے، یہ اس کا خاصہ ہے۔ انسانی تجربے کی آنی جانی اور فانی صورتوں کو ہمیشگی اور دوام کے راستے پر لے جانے کے اس عمل میں منٹو کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ 'ہتک'، 'بابو گوپی ناتھ'، 'کالی شلوار'، 'ٹوبہ ٹیک سنگھ' اور 'کھول دو' جیسے افسانے محض کھلی آنکھوں کی گرفت میں آنے والے مظاہر نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی گہری پرتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
منٹو کی اس تخلیقی کامیابی کا ایک بڑا سبب اس کی معروضیت تھی۔ یہاں معروضیت کا مطلب عقلیت پسندی ہرگز نہیں ہے۔ تخلیقی آدمی کے لیے تعقل کی راہ میں ہزار خطرے چھپے ہوتے ہیں۔ عقلیت ایک خطرناک اسلحہ ہے جو جتنا کچھ دیتی ہے، اس سے زیادہ چھین لیتی ہے۔ اپنے بعض معروف ترقی پسند معاصرین کے برعکس، منٹو نے عقلیت پسندی کے نقصان کو بخوبی سمجھ لیا تھا۔
اس کی فنکارانہ اور تخلیقی بصیرت پر یہ رمز روشن ہو گیا تھا کہ 'آئیڈیالاگ' (Ideologue) ہونے کا مطلب، اپنے تخیل کی موت کو قبول کر لینا ہے۔ اس طرح کی شکست فنکار منٹو کی انا پروری اور تخلیقی آزادی سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتی تھی۔ اسی لیے اس نے خود کو کسی نظریے کی بیڑیوں میں جکڑنے کے بجائے، انسانی تجربے کی سچائی کو اس کی تمام تر غلاظتوں، کمزوریوں اور حسن کے ساتھ پیش کرنے کا راستہ چنا۔
