ورون آنند
غزل 19
اشعار 18
آیا کوئی سیلاب کہانی میں اچانک
اور گھل گئے پانی میں وہ کردار نمک کے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں
کہ میں وہ قیس نہیں ہوں جو مار کھا جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جس پل تجھ سے دور ہوا کرتا ہوں میں
اس پل تیری سخت ضرورت ہوتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میں نے محنت سے سب کمائے ہیں
میرے دکھ ہیں سبھی حلال کے دکھ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یقین کر وہ ترے پاس لوٹ آئے گا
جب اس کا اٹھنے لگے گا یقین لوگوں سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے