تجمل حسین اختر
غزل 2
اشعار 4
شکوہ نہ ہو تسلسل آہ و فغاں رہے
وہ چاہتے ہیں آگ نہ بھڑکے دھواں رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
قربت میں آ پڑے تھے قیامت کے فاصلے
تنہا تھے ہم تو قول و قسم درمیاں رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یوں مسکرا کے ترک تعلق کی گفتگو
ایسا ستم کہ جس پہ کرم کا گماں رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
خوشبوئے پیرہن میں بسا ہے رواں رواں
وہ ہم سے لاکھ دور رہے جزو جاں رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے