سعود عثمانی
غزل 23
اشعار 29
حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی
جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جان ہے تو جہان ہے دل ہے تو آرزو بھی ہے
عشق بھی ہو رہے گا پھر جان ابھی بچایئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مجھے یہ سارے مسیحا عزیز ہیں لیکن
یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تم سے فاصلہ رکھوں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے