Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Qasim Rehman's Photo'

قاسم رحمان

1961 - 2012 | میرپور خاص, پاکستان

قاسم رحمان کا تعارف

تخلص : 'قاسم'

پیدائش : 13 Oct 1961 | میرپور خاص, سندھ

وفات : 01 Jun 2012 | میرپور خاص, سندھ

قاسم رحمان 13 اکتوبر 1961ء کو میرپور خاص، صوبۂ سندھ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار اور مترجم تھے، تاہم ان کی بنیادی شناخت شاعر کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ ان کے والد مولوی عبدالرحمان ایک نفیس شخصیت کے مالک تھے۔ نامساعد معاشی حالات کے باعث قاسم رحمان کو بچپن ہی سے گھریلو ذمہ داریوں اور معاش کی فکر کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میرپور خاص میں حاصل کی، لیکن حالات کے سبب تعلیم کا سلسلہ درمیان میں چھوڑنا پڑا۔ بعد ازاں نوجوانی کے اختتام پر انہوں نے ایک سرکاری کالج سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی۔

قاسم رحمان کو بچپن ہی سے مطالعے کا غیر معمولی شوق تھا۔ ناموافق حالات کے باوجود انہوں نے کتابوں سے اپنا رشتہ برقرار رکھا اور کبھی دیے کی روشنی میں، کبھی لالٹین کے سہارے اور کبھی چاندنی میں بیٹھ کر مطالعہ کیا۔ نسیم حجازی کی تحریریں اور پطرس بخاری کے مضامین ان کے پسندیدہ مطالعوں میں شامل تھے، جب کہ مرزا غالب ان کے پسندیدہ شاعر تھے۔ کم عمری میں شادی کے بعد انہوں نے زندگی کی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے ادبی ذوق کو بھی پروان چڑھایا۔ ان کی سات اولادیں، پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

قاسم رحمان نے 1980ء کے بعد باقاعدہ ادبی دنیا میں قدم رکھا اور شاعری سے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز کیا۔ انہوں نے غزل، آزاد نظم، پابند نظم اور نثری نظم کے میدان میں طبع آزمائی کی۔ شاعری کے ساتھ ساتھ قاسم رحمان نے افسانہ نگاری، ناول نگاری اور ترجمے کے میدان میں بھی کام کیا۔ انہوں نے سندھی سے اردو اور ہندی سے اردو میں تراجم کیے۔ ان کے افسانوں میں ’’غازی‘‘، ’’لاسا‘‘ اور ’’قطار‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ ’’غازی‘‘ خاصا مقبول ہوا اور بعد میں مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوا۔ افسانہ نگاری کے ساتھ انہوں نے ناول نگاری کی طرف بھی توجہ دی اور ایک ناول لکھنا شروع کیا، جو بعد میں ’’مرحوم کی آخری موت‘‘ کے عنوان سے مکمل ہوا۔ ان کی ادبی خدمات کے حوالے سے انہیں میرپور خاص کے پہلے ناول نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

1996ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’تپتی دوپہر‘‘ منظرِ عام پر آیا، جس سے ان کی شاعری کو ادبی حلقوں میں شناخت ملی۔ اس وقت ان کا افسانوی مجموعہ ’’غازی‘‘ اور ناول ’’مرحوم کی آخری موت‘‘ غیر مطبوعہ تھے۔ مالی مشکلات کے باعث یہ دونوں تصانیف اشاعت کے مراحل سے نہ گزر سکیں۔اب زیرِ طباعت ہیں، ساتھ ہی وفات سے قبل جو کلام لکھا گیا وہ بھی زیرِ اشاعت ہے۔ 

قاسم رحمان کی زندگی مسلسل جدوجہد، مطالعے سے گہری وابستگی اور ادبی تخلیق کے لیے وقف رہی۔ وہ 1 جون 2012ء، بروز جمعہ، میرپور خاص، پاکستان میں آنتوں کے سرطان کے باعث وفات پا گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے