غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی کے اشعار
چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کو
تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے
پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن
پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
زمانے کا چلن کیا پوچھتے ہو ؔخواہ مخواہ مجھ سے
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
اڑا کر دیکھ لے کوئی پتنگیں اپنی شیخی کی
بلندی پر اگر ہوں بھی تو کنے کاٹ سکتا ہوں
بیاہ کے بارے میں پوچھا تو نجومی بولا
شاخ سے ٹوٹ کے جھڑنے کا ارادہ کیا ہے
کسی کی نظر ؔخواہ مخواہ لگ نہ جائے
بڑھاپے میں لگتے ہو تم نوجواں سے
ساقی نے میکدے میں مری جیب کاٹ لی
رندوں میں مجھ کو بندۂ بے دام کر گیا
حسینوں سے نگاہیں ؔخواہ مخواہ تم کیوں لڑاتے ہو
کہیں کمزور نہ ہو جائیں پنشن یافتہ آنکھیں
تو ہر طرح کے سبھی کام لے غلاموں سے
غلام گر نہیں ملتے غلام پیدا کر
جو عارضی ہی سہی چند راحتیں لے کر
ضمیر بیچ دیں ایسے عوام پیدا کر
وصل کا لطف شب ہجر کے مارے یوں لیں
نیند آ جائے جو دونوں کو تو خوابوں میں ملیں
کہا نیتا نے بھوک ہڑتال کر کے دوسرے ہی دن
اب اس سے آگے میری فاقہ مستی چل نہیں سکتی
سیاست داں جو طبعی موت مرتے
تو سازش کی ضرورت ہی نہ ہوتی
پریشانی بد امنی اور مہنگائی کی حالت میں
حکومت چل تو سکتی ہے گرہستی چل نہیں سکتی
واعظ و رند اگر شیر و شکر ہو جائیں
ذائقے پند و نصیحت کے شرابوں میں ملیں
چہرے پہ کمسنی میں تھی جھاڑو پھری ہوئی
آیا شباب اور انہیں گلفام کر گیا
لگائیں گے وہ آگ اب بھاشنوں سے
جنہیں جادو بیانی دی گئی ہے
اسی امید پہ میخانے کے چکر کاٹے
شاید اب اچھے بھلے لوگ خرابوں میں ملیں
عبادتوں کے معاوضے میں ملے گی جو عابدوں کو جنت
تم اس کا نقشہ کچھ ایسا کھینچو کہ دل پھسل جائے آدمی کا
غالبؔ کے شعر میرے تخلص سے جوڑ کر
اک شخص ؔخواہ مخواہ مجھے بدنام کر گیا
ہوا ہوں جب سے پنشن یافتہ یہ حال ہے یارو
نہ کوئی قرض دیتا ہے نہ پنشن بانٹ سکتا ہوں
سمجھ لے نام تیرا ہی لکھا ہے دانے دانے پر
کبھی مت سوچ معدے کے لئے اچھا برا کیا ہے
گناہ گاروں اور عاصیوں کو عذاب دوزخ سے واعظو تم
ڈراؤ بے شک مگر نہ اتنا کہ دل دہل جائے آدمی کا
کسی کی ڈھل گئی کیسی جوانی دیکھتے جاؤ
جو تھیں بیگم وہ ہیں بچوں کی نانی دیکھتے جاؤ
تم اپنے چاک دامن کی خبر لو
مرا بوسیدہ پیراہن نہ دیکھو
-
موضوع : دامن
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چلا کچھ بھی نہ میرا زور جب اپنی ہی بیوی پر
دکھاتا رہ گیا میں ہو کے دل برداشتہ آنکھیں
فضائے مسموم میں سانس لے کر کوئی جیا بھی تو کیا کرے گا
ضعیف ہونے سے قبل ہی جب شباب ڈھل جائے آدمی کا
کہا حوا کی بیٹی نے کہ ہم آزاد پنچھی ہیں
یہ زیور بوجھ ہوتے ہیں نہ پہنیں تو برا کیا ہے
جھگڑ کر جب کہا بیگم نے ہم سے گھر سے جانے کو
بہت بے آبرو ہو کر خود اپنے گھر سے ہم نکلے
نا میں دولہا ہوں نیا اور نہ نئی دولہن تم
دونوں بوڑھے ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
مزاح و طنز کے جب تیر بیٹھیں گے نشانے پر
جو دیوانے ہیں ان کی عقل آئے گی ٹھکانے پر
ٹنگی ہے جو مرے ہینگر نما کندھوں پہ میلی سی
مری شادی کی ہے یہ شیروانی دیکھتے جاؤ
پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے
یوں سمجھو بلی کے بھاگوں ٹوٹا چھیکا لگتا ہے
کچھ سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ آخر کیا کروں
اس بڑھاپے میں بھی مجھ پر ہیں فدا کچھ گل بدن
مجھے کھانے کے فوراً بعد ہی پھر بھوک لگتی ہے
کوئی تو یہ بتائے ؔخواہ مخواہ مجھ کو ہوا کیا ہے
بدل دی ہے کسی نے شیروانی
نئی لے کر پرانی دی گئی ہے