جنم دن سے لے کر شب مرگ تک
جنم دن سے لے کر شب مرگ تک
میں لمحوں کا چرخہ گھماتا رہا
تیرگی روشنی پھول پودے پرندے خزاں نفرتیں چاہتیں تتلیاں
وقت کا ڈھیر کیا کیا اگلتا رہا
دل میں اندیشۂ موت پلتا رہا
ایک خواہش
جو حسرت میں ڈھلتی گئی
عمر بھر ایک دھن
دائمی زندگی
زندگی کو یہی روگ کھاتا رہا
لفظ لکھے بنائے دکھائے بہت
گنگنائے بہت
حرف بھی رائیگاں
صوت بھی رائیگاں
اک یقین گماں
موت پیہم رواں
بس یہی بات شاید رہے دائمی
اک تماشائی کی
یہ تماشا گری
جو کہیں دور بیٹھا
تماشے کی ڈوریں ہلاتا رہے
سانس آتا رہے
سانس جاتا رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.