ذکر اس پری وش کا
تمہی نے تو مجھ سے کہا تھا کہ میں
بے کراں وسعتوں کا احاطہ کروں
اور پھیلی ہوئی اس زمیں کا سہانا
بدن اپنے بوسوں سے گلنار کر دوں
مگر تب تلک چھا چکے تھے مرے سر پہ بادل حیا کے
مرے سامنے رونقیں تھیں جواں تازگی تھی
مگر میں
ہر اک رنگ سے اپنی بے گانگی مشتہر کر چکا تھا
مرے سامنے تم کھڑی تھیں
نگاہوں میں ٹھنڈے جواں چاند کی روشنی کو چھپائے
یہ اس عہد کا اک لطیفہ ہے
جب میں
خلا میں بھٹکتے ہوئے بادلوں کی طرح
زندگی کے ہر اک حسن پر
اک اچٹتی نظر ڈال کر چل رہا تھا
کئی ساگروں پربتوں سے گزر کر
وہ سائے نجانے کہاں کھو گئے ہیں
میں اب راستے کے ہر اک موڑ سے پوچھتا ہوں
کہ پچھلے جنم میں
ادھر سے گزرتے ہوئے تم نے دیکھا اس کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.