تصویر
اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں
یہ وہ آنکھیں ہیں جنہیں جھیل کہا تھا میں نے
تھی کبھی گہری رمق ان میں شناسائی کی
اب انہیں یاد نہیں شکل بھی سودائی کی
اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں
یہی رخسار صحیفہ تھے کبھی میرے لیے
ان کی رنگت میں گندھی تھی مرے احساس کی لو
ان سے پاتی تھی مری آنکھ خیالات کی ضو
اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں
مخملیں ہونٹ دہکتے ہوئے انگارہ ہونٹ
جن کو ازبر تھی کسی دور میں پیشانی مری
اب پریشانی ہے ان کے لیے بے معنی مری
اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں
یہ وہ زلفیں ہیں کہ جن زلفوں کے سائے سائے
میں نے جذبات کا ہر زمزمہ ایجاد کیا
حیف کس واسطے دل مفت میں برباد کیا
ہاں وہ آنکھیں لب و رخسار مرے تھے ہی نہیں
جن کو پانے کی کئی سال ریاضت کی تھی
میں تھا ناداں کہ کبھی اس سے محبت کی تھی
اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.