Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تصویر

MORE BYعبدالرحمان واصف

    اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں

    یہ وہ آنکھیں ہیں جنہیں جھیل کہا تھا میں نے

    تھی کبھی گہری رمق ان میں شناسائی کی

    اب انہیں یاد نہیں شکل بھی سودائی کی

    اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں

    یہی رخسار صحیفہ تھے کبھی میرے لیے

    ان کی رنگت میں گندھی تھی مرے احساس کی لو

    ان سے پاتی تھی مری آنکھ خیالات کی ضو

    اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں

    مخملیں ہونٹ دہکتے ہوئے انگارہ ہونٹ

    جن کو ازبر تھی کسی دور میں پیشانی مری

    اب پریشانی ہے ان کے لیے بے معنی مری

    اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں

    یہ وہ زلفیں ہیں کہ جن زلفوں کے سائے سائے

    میں نے جذبات کا ہر زمزمہ ایجاد کیا

    حیف کس واسطے دل مفت میں برباد کیا

    ہاں وہ آنکھیں لب و رخسار مرے تھے ہی نہیں

    جن کو پانے کی کئی سال ریاضت کی تھی

    میں تھا ناداں کہ کبھی اس سے محبت کی تھی

    اس کی تصویر اٹھائے ہوئے یہ سوچتا ہوں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے