میرا جی
اس کی آنکھیں اس کی زلفیں
آج بھی مجھ کو یاد ہیں جیسے
میں نے ان کو کل دیکھا ہے
آنکھوں کا معصوم تجسس
آج بھی ان کو ڈھونڈھ رہا ہے
اس کی تنہائی کا جنگل
جن کی یاد سے گونج رہا ہے
اس کے چاہنے والے کیا کیا
اس کا نام لیا کرتے تھے
اس کے نئے پرانے نغمے
اس کی نثر لطیف کے ٹکڑے
اس کی اچھوتی دلکش باتیں
ان کا رشتۂ جاں تھیں گویا
مجھ کو ان پر رشک آتا تھا
مجھ کو اس سے عشق نہیں تھا
میں اک شرمیلا سا انساں
اس کے گیتوں کا دل دادہ
دور ہی دور سے
ڈرتے ڈرتے
اس کو دیکھ لیا کرتا تھا
مجھ کو اس سے عشق نہیں تھا
مجھ کو اس سے عشق نہیں ہے
لیکن پھر بھی میری آنکھیں
ان زلفوں کو
ان آنکھوں کو
آج بھی ہر سو دیکھ رہی ہیں
اور وہ آنکھیں
نغمہ آنکھیں
حیراں اور متجسس آنکھیں
آنسو آنکھیں
ہر رستے پر آن کھڑی ہیں
اور ہر آنے جانے والے راہی سے یہ
پوچھ رہی ہیں
آج مرے عشاق کہاں ہیں
آج مرے عشاق کہاں ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.