تذبذب
موم کی اک مورتی بیٹھی ہے میرے سامنے
میرے خوابوں کی حرارت میری امیدوں کی آنچ
لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہے سوچتا ہوں کیا کروں
دور رہتا ہوں تو میرے مضطرب جذبات پر
اس کی زلفوں کا خنک سایا نہ پڑنے پائے گا
اور میں نے چھو لیا تو اس کی باہوں کا گداز
قطرہ قطرہ ہو کے میری گود میں گر جائے گا
رات ڈھلتی جا رہی ہے سوچتا ہوں کیا کروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.