تمنا
مجھے تم سے ملنے کی امید کب ہے
مآل مسرت کی تاریکیوں میں
نہیں خود فریبی کا کوئی اجالا
مرا حوصلہ سر کو زانو پہ رکھے
خجالت سے منہ آستیں میں چھپائے
بڑی دیر سے سسکیاں لے رہا ہے
کبھی آس کی پھانس دل میں چبھی تھی
سو مدت ہوئی ٹوٹ کر رہ گئی ہے
مرے دل میں اک پھول امید کا تھا
اسے وقت کے ہاتھ نے نوچ ڈالا
اب اس زخم سے تجربہ رس رہا ہے
مری روح کی چیخ ابھرنے سے پہلے
لبوں پر مرے منجمد ہو گئی ہے
مرے چاروں اطراف غم کا دھواں ہے
مگر ایک شعلہ بھڑکتا ہے دل میں
لپکتی ہوئی جس کی خونیں زبانیں
مری روح کو چاٹتی جا رہی ہیں
یہ شعلہ ابھی تک یونہی ضو فشاں ہے
نہ امید کوئی نہ کوئی سہارا
بغاوت کی ہمت نہ کوشش کا یارا
مری بے بسی مجھ پہ ظاہر ہے لیکن
تمہاری تمنا تمہاری تمنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.