اجڑے ہوئے ساحلوں کی کہانی
میں بکھرتی چاپ ہوں
اور ساحلوں سے لوٹ کر آتی صداؤں کو سنا کرتا ہوں
لیکن کیاریاں پیلے گلابوں کی مہکتی ہیں
تو تم سے کچھ نہیں کہتا ذرا سا مسکراتا ہوں
کہ تم مجھ سے کہو میری کہانی اور میں سنتا ہی جاؤں
لفظ بن کر سامنے آؤں
کہ جس کو تم بھلا دیتی ہو اکثر
اور مجھ سے پوچھتی ہو اجنبی بن کر
صدائیں بیت جاتی ہیں
کہانی بیت جائے گی
مگر اک چاپ ہے
جو شب کی گہری سرد تنہائی میں سارے شہر
کی گلیوں میں پھرتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.