شجر ہجر اور میں
تمہارا راستہ دیکھا ہے میں نے کتنے سالوں تک
مگر تم خواب میں آئے حقیقت کیوں نہ بن پائے
تمہارے دن بہ دن پیغام بھی آتے رہے تھے بس
مگر تم تو نہیں آئے
بھلا کیسی محبت ہے
جو افسردہ ہے دل میرا
سبب اس کا تو بس تم ہو
مجھے تنہائیوں سے عشق ہونے لگ گیا تھا پھر
تمہارے ہجر میں تنہا میں خود کو کر گئی بے حد
تمہیں میں کیسے اپنا حال اپنی کیفیت کہتی
بہت بے کیف تھے دن اور تھیں بے خواب سی راتیں
سحر خیزی کی عادت جو نہ لگتی اور کیا ہوتا
اچانک گھر سے میں نکلی
قدم خود چل رہے تھے اور میں بے خود طبیعت تھی
مرے گھر سے ہی تھوڑی دور تھا پیارا سا باغیچہ
جہاں میں روز جاتی تھی
اور اس باغیچے میں اک بنچ پر میں بیٹھ جاتی تھی
اسی پورب کی جانب ایک پھولوں کا شجر بھی تھا
نظر اس پر پڑی تو یوں لگا وہ بات کرتا ہے
میں اس کی سمت کھنچتی کیوں گئی حیرت میں تھی
میں بھی
میں اک ٹک اس کو دیکھے جا رہی تھی پھر اچانک سے
مجھے ایسا لگا کہ اس نے پوچھا کون ہو پیاری
میں نم آنکھوں سے مسکائی کہا ہوں صنف نازک میں
مگر اتنی ہی بے دردی سے اس نے دل کو توڑا ہے
سنانے میں لگی پھر اس کو اپنا سارا حال دل
شجر کی شکل میں محسن ملا تھا بعد مدت کے
بہت ہی خوبصورت سلسلہ ہر روز چل نکلا
میں جس سے بیٹھ کر کرتی ہی رہتی تھی تری باتیں
مسلسل جو مرے ہر غم میں میرے ساتھ رہتا تھا
تڑپ میری مرے آنسو سبھی محسوس کرتا تھا
ہوا کے ساتھ اس نے جھومنا بھی ترک کر ڈالا
اور اس نے شاخ سے اپنے سبھی پتے گرا ڈالے
مرے ہر درد سے دل اپنا بھاری کر لیا اس نے
مرے غم کو بھی اس نے خود پہ طاری کر لیا جیسے
میں اپنی ہر خوشی ہر غم کو اس سے بانٹتی آئی
میں تیرے ہجر میں اس بار تنہا تھی نہیں جاناں
شجر نے بھی تو میرے ساتھ تیرا ہجر کاٹا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.