Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نظم

MORE BYندیم شاد

    ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے

    دن کہاں گزرتا ہے

    رات کیسے کٹتی ہے

    دوپہر میں جلتے ہو

    شام کیسی لگتی ہے

    خواب کس کو کہتے ہیں

    نیند کیسی ہوتی ہے

    ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے

    سب سے کیوں نہیں ملتے

    رہ رہے ہو کیوں تنہا

    چاہیئے تمہیں آخر

    گھر کا کیوں وہی کمرہ

    جس میں چاہنے پر بھی

    جی کبھی نہیں لگتا

    ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے

    کس کی یاد میں گم ہو

    کیسے زخم سیتے ہو

    بھوک کیوں نہیں لگتی

    ایسے کیسے جیتے ہو

    کتنی سگرٹیں دن میں

    کتنی چائے پیتے ہو

    ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے

    اور جب نہیں کوئی پوچھتا

    تو یہ لڑکے

    گر کے گہرے پانی میں یا تو پھول جاتے ہیں

    خودکشی کی چوکھٹ پر خود کو بھول جاتے ہیں

    چوم کر کوئی رسی اس پہ جھول جاتے ہیں

    ان اداس لڑکوں کا

    ایسے انت ہوتا ہے

    ایسے انت سے پہلے

    ان اداس لڑکوں کا

    ہاتھ تھام لو یارو

    اور لگاؤ سینے سے

    اور پھر کہو ان سے

    آپ یہ قرینے سے

    مشکلیں تو حل ہوں گی

    زندگی کو جینے سے

    ہو گیا جو ہونا تھا

    تم جیا کرو پیارے

    کیا اداس رہتے ہو

    مت رہا کرو پیارے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے