نغموں کا زہر
میں جب گہری تنہائی کے غار میں چھپ کر
ارض و سما سے ناطہ توڑ لیا کرتا ہوں
گم گشتہ رنگوں کے ہیولے
بند آنکھوں کے صحراؤں میں تیر رہے ہوتے ہیں
بھولے بھٹکے ناگ کئی یادوں کے
سوئے ذہن میں جاگ اٹھتے ہیں
آج کی فکر اور کل کے خدشے
وحشی تشنہ آرزؤں کے ساز بجاتے
سوئی ہوئی خاموش سماعت پر تیروں کی باڑھ لگا دیتے ہیں
ساکت جسم کی جانب پل پڑتے ہیں
ایک قیامت جاگ اٹھتی ہے
اک نغموں کا سیل ابل پڑتا ہے
میری رگ رگ میں نغموں کا زہر سرایت کر جاتا ہے
میں جو سکوں کو ڈھونڈھ رہا ہوں
مجھ کو شاید موت کی گونگی سرد گپھا میں چین ملے گا
جس میں نغموں کا زہراب نہیں ہوتا ہے
لیکن کوئی موت کی گونگی سرد گپھا سے لوٹ کے بھی آتا ہے
مجھ کو یہ نغموں کا زہر گوارا
مجھ کو زیست گوارا!
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.