Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نغموں کا زہر

جاوید قمر

نغموں کا زہر

جاوید قمر

MORE BYجاوید قمر

    میں جب گہری تنہائی کے غار میں چھپ کر

    ارض و سما سے ناطہ توڑ لیا کرتا ہوں

    گم گشتہ رنگوں کے ہیولے

    بند آنکھوں کے صحراؤں میں تیر رہے ہوتے ہیں

    بھولے بھٹکے ناگ کئی یادوں کے

    سوئے ذہن میں جاگ اٹھتے ہیں

    آج کی فکر اور کل کے خدشے

    وحشی تشنہ آرزؤں کے ساز بجاتے

    سوئی ہوئی خاموش سماعت پر تیروں کی باڑھ لگا دیتے ہیں

    ساکت جسم کی جانب پل پڑتے ہیں

    ایک قیامت جاگ اٹھتی ہے

    اک نغموں کا سیل ابل پڑتا ہے

    میری رگ رگ میں نغموں کا زہر سرایت کر جاتا ہے

    میں جو سکوں کو ڈھونڈھ رہا ہوں

    مجھ کو شاید موت کی گونگی سرد گپھا میں چین ملے گا

    جس میں نغموں کا زہراب نہیں ہوتا ہے

    لیکن کوئی موت کی گونگی سرد گپھا سے لوٹ کے بھی آتا ہے

    مجھ کو یہ نغموں کا زہر گوارا

    مجھ کو زیست گوارا!

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے