Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اعراف

وزیر آغا

اعراف

وزیر آغا

MORE BYوزیر آغا

    کہیں دور ہنستی ہوئی برف کی پتیاں

    سرخ بادل کے چھتنار سے ٹوٹ کر

    سبز کھیتوں منقش چھتوں جگمگاتی ہوئی شاہراہوں کو

    اک پل میں ڈھانپیں

    ملائم مہکتے ہوئے جسم پر اپنی رنگت نچھاور کریں

    خون تک کو تھرکنے پہ اکساتی جائیں

    کہیں دور دھرتی کی پچکی ہوئی جلد سے

    کالے گنجان جنگل نکل کر

    ہر اک چیز کو اپنے سایوں سے ڈھانپیں

    بپھرتی ہوئی ندیوں وحشی آنکھوں دھوئیں کے سندیسوں کو

    کالی ردا میں چھپائیں

    بڑی دور تک اپنی پرچھائیوں سے

    انوکھا سا اک خوف پھیلاتے جائیں

    گھنے گہرے پتوں میں دہکے ہوئے جسم پر کالی رنگت نچھاور کریں

    خون کے کھولنے کے تماشے دکھائیں

    مری سمت دیکھو جہاں میں کھڑا ہوں

    نہ بادل کا چھتنار مجھ پر کبھی خوب رو پتیاں پھینکتا ہے

    نہ جنگل کی کالی ردا ہی مجھے ڈھانپتی ہے

    مرے چاروں جانب ہر اک چیز مٹیالی رنگت میں کھوئی ہوئی ہے

    لہو منجمد ہے

    فضا پر بجھی گرد کا سائباں ہے

    زمیں ایک پھیلا ہوا خاکداں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے