اعراف
کہیں دور ہنستی ہوئی برف کی پتیاں
سرخ بادل کے چھتنار سے ٹوٹ کر
سبز کھیتوں منقش چھتوں جگمگاتی ہوئی شاہراہوں کو
اک پل میں ڈھانپیں
ملائم مہکتے ہوئے جسم پر اپنی رنگت نچھاور کریں
خون تک کو تھرکنے پہ اکساتی جائیں
کہیں دور دھرتی کی پچکی ہوئی جلد سے
کالے گنجان جنگل نکل کر
ہر اک چیز کو اپنے سایوں سے ڈھانپیں
بپھرتی ہوئی ندیوں وحشی آنکھوں دھوئیں کے سندیسوں کو
کالی ردا میں چھپائیں
بڑی دور تک اپنی پرچھائیوں سے
انوکھا سا اک خوف پھیلاتے جائیں
گھنے گہرے پتوں میں دہکے ہوئے جسم پر کالی رنگت نچھاور کریں
خون کے کھولنے کے تماشے دکھائیں
مری سمت دیکھو جہاں میں کھڑا ہوں
نہ بادل کا چھتنار مجھ پر کبھی خوب رو پتیاں پھینکتا ہے
نہ جنگل کی کالی ردا ہی مجھے ڈھانپتی ہے
مرے چاروں جانب ہر اک چیز مٹیالی رنگت میں کھوئی ہوئی ہے
لہو منجمد ہے
فضا پر بجھی گرد کا سائباں ہے
زمیں ایک پھیلا ہوا خاکداں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.