Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ٹوٹتی قدروں کا درد

مجاز آشنا

ٹوٹتی قدروں کا درد

مجاز آشنا

MORE BYمجاز آشنا

    ذہن مفلوج ہے

    روح بے چین ہے

    اور احساس میں آگ ہی آگ ہے

    دل کی دنیا ہے ویران کچھ اس طرح

    جیسے اک مقبرہ

    جو خود اپنے تعفن میں لپٹا ہوا

    اپنے ہی آپ سے سخت بیزار ہے

    کچھ سوالات ہیں جن سے دوچار ہے

    زندگی سر برہنہ بھٹکتی ہے کیوں

    آدمیت کفن اوڑھے سوئی ہے کیوں

    جسم و جاں آرزوؤں کے جنگل میں ہیں

    خود سری کے خطرناک دلدل میں ہیں

    کوئی انسانیت کا پجاری نہیں

    اب کہیں مذہبی دوست داری نہیں

    اب خدا کی عطا روشنی کے پیمبر نہیں آئیں گے

    خود روی کے اندھیرے میں گم ہو گئے

    وہ سبھی فلسفے

    جو سکھاتے رہے آدمیت کا فن

    زندگی کا چلن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے