ٹوٹتی قدروں کا درد
ذہن مفلوج ہے
روح بے چین ہے
اور احساس میں آگ ہی آگ ہے
دل کی دنیا ہے ویران کچھ اس طرح
جیسے اک مقبرہ
جو خود اپنے تعفن میں لپٹا ہوا
اپنے ہی آپ سے سخت بیزار ہے
کچھ سوالات ہیں جن سے دوچار ہے
زندگی سر برہنہ بھٹکتی ہے کیوں
آدمیت کفن اوڑھے سوئی ہے کیوں
جسم و جاں آرزوؤں کے جنگل میں ہیں
خود سری کے خطرناک دلدل میں ہیں
کوئی انسانیت کا پجاری نہیں
اب کہیں مذہبی دوست داری نہیں
اب خدا کی عطا روشنی کے پیمبر نہیں آئیں گے
خود روی کے اندھیرے میں گم ہو گئے
وہ سبھی فلسفے
جو سکھاتے رہے آدمیت کا فن
زندگی کا چلن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.