بے بسی
کب تلک صبر کرے گی یہ بھلا فطرت ساز
نغمۂ شوق کی آتی نہیں کوئی آواز
سرخ جوڑے کی تمنائیں بھی دم توڑ چکیں
ڈھل گئے کتنے دمکتے ہوئے چہروں کے گداز
کوئی آیا نہیں خوابوں کا حسیں شہزادہ
اور امید میں ہوتی ہی گئی عمر دراز
ختم سب ہو گئیں آرائش و زیب و زینت
کوئی کس کے لیے کرتا رہے آخر یہ طراز
رنگ پھیکے ہیں امنگیں ہوئیں ریزہ ریزہ
زیست بے معنی حقیقت کے سوا جیسے مجاز
ہوگی کب ختم زمانے سے وبا لالچ کی
وہ کہاں ہیں کے جنہیں اپنی بصیرت پہ ہے ناز
کتنی تحریکیں زمانے میں چلی ہیں لیکن
ان مسائل پہ کبھی کیوں نہیں اٹھتی آواز
درس دیتے ہیں مساوات کا دن رات مگر
اپنی خو کے لیے رکھتے ہیں رواجوں کا جواز
کیوں ہیں مرجھائیں جوانی میں مہکتی کلیاں
کیوں اذیت سے بھرے ہیں یہ سماجی انداز
بے بسی پوچھ رہی ہے یہی انسانوں سے
کیوں میسر نہیں زر کے بنا کوئی دم ساز
ناصحا کاش مواعظ کے ہوں عنوان جہیز
کیا عجب ہے کے دلوں تک تری پہنچے آواز
درد کے رنگ دکھا دیتا ہے اس دنیا کو
اور تو کچھ نہیں ارشادؔ کو حاصل اعجاز
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.