Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بے بسی

ارشاد دہلوی

بے بسی

ارشاد دہلوی

MORE BYارشاد دہلوی

    کب تلک صبر کرے گی یہ بھلا فطرت ساز

    نغمۂ شوق کی آتی نہیں کوئی آواز

    سرخ جوڑے کی تمنائیں بھی دم توڑ چکیں

    ڈھل گئے کتنے دمکتے ہوئے چہروں کے گداز

    کوئی آیا نہیں خوابوں کا حسیں شہزادہ

    اور امید میں ہوتی ہی گئی عمر دراز

    ختم سب ہو گئیں آرائش و زیب و زینت

    کوئی کس کے لیے کرتا رہے آخر یہ طراز

    رنگ پھیکے ہیں امنگیں ہوئیں ریزہ ریزہ

    زیست بے معنی حقیقت کے سوا جیسے مجاز

    ہوگی کب ختم زمانے سے وبا لالچ کی

    وہ کہاں ہیں کے جنہیں اپنی بصیرت پہ ہے ناز

    کتنی تحریکیں زمانے میں چلی ہیں لیکن

    ان مسائل پہ کبھی کیوں نہیں اٹھتی آواز

    درس دیتے ہیں مساوات کا دن رات مگر

    اپنی خو کے لیے رکھتے ہیں رواجوں کا جواز

    کیوں ہیں مرجھائیں جوانی میں مہکتی کلیاں

    کیوں اذیت سے بھرے ہیں یہ سماجی انداز

    بے بسی پوچھ رہی ہے یہی انسانوں سے

    کیوں میسر نہیں زر کے بنا کوئی دم ساز

    ناصحا کاش مواعظ کے ہوں عنوان جہیز

    کیا عجب ہے کے دلوں تک تری پہنچے آواز

    درد کے رنگ دکھا دیتا ہے اس دنیا کو

    اور تو کچھ نہیں ارشادؔ کو حاصل اعجاز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے