حرف مکرر
شام پر شام ابد کا ہے گماں دیکھو تو
کوئی ہے کوئی نہیں کوئی نہیں کوئی نہیں
کیا ابھی گھومتی ہے مہر کے اطراف زمیں
نور آنکھوں کا مقدر ہے سنا تھا میں نے
لب کو اظہار کی معراج سمجھ بیٹھا تھا
ایک دھڑکن تھی کہ جس پر تھا مجھے دل کا فریب
سر کو خاکم بدہن تاج سمجھ بیٹھا تھا
کون پڑھ پائے مجھے کس کا گزر ہوگا ادھر
شبنم و آب سے لکھا ہوا اک کتبہ ہوں
اپنی ہی قبر کا جاروب کش تنہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.