ایک شام
دیکھ پھر آج بھی اس نگری میں
شام کی کرنیں تیرے ساتھ چلی ہیں
تیرے ساتھ چلی ہیں
دیکھ اب کہیں کہیں ان لمبی لال لووں کی لڑیاں میلی دھوپ میں بجھ کے
رستوں سے پیوست پڑی ہیں
کہیں کہیں یہ زرد سلگتے تیکھے بان دلوں میں چبھ کر ٹوٹ گئے ہیں
آسمان سے لے کر سطح زمیں تک
ہر سو پھیل گئی ہیں لاکھ خراشیں
دکھتی خراشیں گہری الجھی ہوئی لہریلی
پگھلی ہوئی بے جسم سلاخیں پتلی پتلی پیلی پیلی
دیکھ اب ان سیال سلاخوں کی چمکیلی باڑھ یہ جتنے پھول تھے ان کو
توڑ کے لے گئے بے سدھ جھونکے
باقی صرف اک سرد سیاہ الجھاؤ
بجھتی ہوئی اک سانس کے قیدی
دیکھ اب تیرے سامنے ہیں وہ سارے سرد سیاہ زمانے
جن کے بھنور میں تیرے دیپ کی لو اس وقت سے لرزاں ہے
پہلا سورج صدیوں پہلے جب ترے دل میں ڈوبا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.