Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک شام

مجید امجد

ایک شام

مجید امجد

MORE BYمجید امجد

    دیکھ پھر آج بھی اس نگری میں

    شام کی کرنیں تیرے ساتھ چلی ہیں

    تیرے ساتھ چلی ہیں

    دیکھ اب کہیں کہیں ان لمبی لال لووں کی لڑیاں میلی دھوپ میں بجھ کے

    رستوں سے پیوست پڑی ہیں

    کہیں کہیں یہ زرد سلگتے تیکھے بان دلوں میں چبھ کر ٹوٹ گئے ہیں

    آسمان سے لے کر سطح زمیں تک

    ہر سو پھیل گئی ہیں لاکھ خراشیں

    دکھتی خراشیں گہری الجھی ہوئی لہریلی

    پگھلی ہوئی بے جسم سلاخیں پتلی پتلی پیلی پیلی

    دیکھ اب ان سیال سلاخوں کی چمکیلی باڑھ یہ جتنے پھول تھے ان کو

    توڑ کے لے گئے بے سدھ جھونکے

    باقی صرف اک سرد سیاہ الجھاؤ

    بجھتی ہوئی اک سانس کے قیدی

    دیکھ اب تیرے سامنے ہیں وہ سارے سرد سیاہ زمانے

    جن کے بھنور میں تیرے دیپ کی لو اس وقت سے لرزاں ہے

    پہلا سورج صدیوں پہلے جب ترے دل میں ڈوبا تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے