ایک سوال
شام کا پہلا ستارا
جھانکتا ہے آسماں سے
اور میں کچھ آہٹوں کی نغمگی کو
اپنی سانسوں میں بسا کر
سوچتا ہوں
ان کھٹکتی آہٹوں کو
گیت بن بن کر بکھرنا ہے مری تنہائیوں پر
تھک چلی ہے سوچ میری
بجھ رہی ہیں آرزوئیں
کوئی آہٹ جسم کی صورت بدل کر
میرے پاس آتی نہیں ہے
کس سے پوچھوں
شام کا یہ خوشنما پہلا ستارا
کب تلک آخر دکھائی دے سکے گا
نت نئے تارے اگلتے آسماں پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.