منافق
چلو ہم منافق کی سازش سے
محفوظ رہنے کی تدبیر سوچیں
یہ ایذا رساں
اپنی فطرت سے
مجبور ہو کر
کبھی وار کرتے نہیں سامنے سے
یہ اپنے لہو میں
جراثیم مکاریوں کے لئے
گھومتے ہیں
لبوں پر سجائے تبسم کے دیپک
یہ دل میں اترنے کے فن سے
بخوبی ہیں واقف
منافق کی سازش سے
محفوظ رہنے کی تدبیر یہ ہے
منافق کو ہم دوست ہرگز نہ اپنا بنائیں
منافق کبھی دوست
ہوتا نہیں ہے کسی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.