نئے دیوتا
سمندر کی گہرائیوں سے ابھرتا
کسی زرد خورشید کا سرد سایہ
قدیم آستانوں کے ویراں کھنڈر میں
شب تیرگی کا نیا حکم جاری
جھکے شہر خاموش پر بھیگتی شب
کسی بوڑھے ساحر کی صورت کھڑی ہے
نہ کوئی صدا ہے نہ کوئی بشر ہے
ہمیں آگہی کے سرابوں نے گھیرا
صلیبوں پہ لٹکے ہوئے خواب آدم
یہ بیدار ذہنوں کا اک سونا صحرا
نہ کوئی مسیحا نہ کوئی پیمبر
صنم خانۂ عقل کی جالیوں سے
نئے دیوتا اب نکلنے کو آئے
سمندر سے لپٹا ہے صحرا کا دامن
پھر اس پیاس کا دائرہ بن رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.