Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اندیشہ

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    دلچسپ معلومات

    یہ نظم کتاب "دھوپ کا دریچہ" سے ماخوذ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ یہ کتاب 1993 میں شائع ہوئی، لیکن جگجیت سنگھ نے اس خوبصورت نظم کو اس سے بہت پہلے، 1976 سے بھی قبل، اردو رسالہ "شمع" میں دریافت کر چکے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے اسے اپنے مشہور اور انقلابی البم The Unforgettables میں شامل کیا، جو ان کے کیریئر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ یہی تخلیق بعد میں کامیاب فلم Grih Pravesh میں بھی شامل کی گئی۔

    بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

    لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

    یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو

    جگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہو

    انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف

    اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف

    چوڑیوں پر بھی کئی طنز کیے جائیں گے

    کانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گے

    پھر کہیں گے کہ ہنسی میں بھی خفا ہوتی ہیں

    اب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیں

    لوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گے

    باتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گے

    ان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا

    ورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گے

    چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سے

    میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سے

    بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عابد علی بیگ

    عابد علی بیگ

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین,

    فہد حسین

    اندیشہ فہد حسین

    مأخذ :
    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 109)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے