منظر منظر
چاندنی وہ عورت ہے
جو کھلے مکانوں کی
چھت پہ مسکراتی ہے
دھوپ وہ حسینہ ہے
جس کا سبز آنچل ہے
پھول جس کے گہنے ہیں
گیت جو سناتی ہے
جانے کتنے لمحوں نے
خواب سے دکھائے ہیں
شعر سے سنائے ہیں
زندگی کے لمحوں میں
کیسے خواب دیکھے گا
ایک پیڑ ننگا ہے
ایک پیڑ پیاسا ہے
ایک پیڑ تنہا ہے
کیسے خواب دیکھے گا
اک صدا سی آتی ہے
دھوپ وہ حسینہ اب
جسم و جاں جلاتی ہے
چاندنی وہ بیوہ ہے
مجھ کو جو رلاتی ہے
رات اک بیاباں ہے
نیند کس کو آتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.