Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تین دیواروں کا قیدی

اظہر سجاد

تین دیواروں کا قیدی

اظہر سجاد

MORE BYاظہر سجاد

    نیند ہے یا خواب ہے دیوار ہے

    جس میں کوئی در نہیں

    اک تکونی منحنی سی اور لچکتی

    موم جیسی تہ بہ تہ

    منہدم ہوتی ہے

    نہ ہی ٹوٹتی ہے

    میں گرا سکتا نہیں

    کروٹیں بدلوں اگر تو راستہ ملتا نہیں

    ہاں فقط دیوار ہے

    روشنی کا رخ بدلتی سات رنگوں میں اسے تقسیم کرتی

    اور میں

    لمحۂ موجود میں جکڑا ہوا

    تین دیواروں کا قیدی

    لمحہ لمحہ خواب میں ڈھلتا ہوا

    ہاں مگر اتنا یقیں ہے

    اس طرف تو میں ہی میں ہوں

    کیا خبر باریک حد کے اس طرف بھی

    میرے جیسا ہی کوئی موجود ہو

    قہقہے ہوں روشنی ہو مختلف سے خواب ہوں

    اور کچھ ہنستی نگاہیں

    بے صدا ہونٹوں کی باتیں

    سرمئی سائے بھی ہوں

    غالباً سب کچھ وہیں ہو

    کیا خبر کچھ بھی نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے