تین دیواروں کا قیدی
نیند ہے یا خواب ہے دیوار ہے
جس میں کوئی در نہیں
اک تکونی منحنی سی اور لچکتی
موم جیسی تہ بہ تہ
منہدم ہوتی ہے
نہ ہی ٹوٹتی ہے
میں گرا سکتا نہیں
کروٹیں بدلوں اگر تو راستہ ملتا نہیں
ہاں فقط دیوار ہے
روشنی کا رخ بدلتی سات رنگوں میں اسے تقسیم کرتی
اور میں
لمحۂ موجود میں جکڑا ہوا
تین دیواروں کا قیدی
لمحہ لمحہ خواب میں ڈھلتا ہوا
ہاں مگر اتنا یقیں ہے
اس طرف تو میں ہی میں ہوں
کیا خبر باریک حد کے اس طرف بھی
میرے جیسا ہی کوئی موجود ہو
قہقہے ہوں روشنی ہو مختلف سے خواب ہوں
اور کچھ ہنستی نگاہیں
بے صدا ہونٹوں کی باتیں
سرمئی سائے بھی ہوں
غالباً سب کچھ وہیں ہو
کیا خبر کچھ بھی نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.