Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لوح دائرہ

جون ایلیا

لوح دائرہ

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    میں دائرے پر پڑا ہوا اپنے خوں کے دھبوں کو چاٹتا ہوں

    کہ میرے ہونے کا سارا الزام میرے سر ہے

    لبوں کی دہلیز پر مری روح کب سے فریاد کر رہی ہے

    میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں میں اپنی آنکھوں میں بجھ رہا ہوں

    یہ شاہراہوں کا حادثہ ہے مگر کسی کو خبر نہیں ہے

    مجھے بچا لو مجھے بچا لو

    ہجوم آدم جواب دے کیا یہ کوئی صحرا ہے شہر کی رہ گزر نہیں ہے

    میں پھر نہ آؤں گا میری آواز پھر نہ آئے گی

    میرا اثبات پھر نہ ٹکرائے گا تمہاری بطالتوں سے

    مگر مرا بال بال مقروض ہے مرے جبر آگہی کا

    میں اپنی آواز کا بدن ہوں

    جو چپ ہے اس کی زبان اس کے دہن میں سڑ جائے گی

    میں بولوں گا اور مرا بولنا ہی میرا زیاں بھی ٹھہرے گا

    میرے سینے میں جو خراشیں سلگ رہی ہیں

    وہ آخر کار میری لوح مزار کا حاشیہ بنیں گی

    جواب کی بستیوں کے دروازے بند ہیں اور مرا گلا خشک ہو چکا ہے

    تمام انسان اپنی پرچھائیوں کو اوڑھے ہوے ہیں اور شام بہہ رہی ہے

    دھند نے چوک کے بڑے برج کا مثلث نگل لیا ہے

    سکوت کا زمہریر سمتوں میں گھل چکا ہے

    میں ایک سنگین مجسمہ ہوں جسے بنا کر جسے خیاباں میں نصب کر کے

    مجسمہ ساز اور معمار اپنا روزینہ پا چکے ہیں

    میں ایک سنگیں مجسمہ ہوں

    جو دھند کی طیلسان اوڑھے ہوئے ہیولوں کو تک رہا ہے

    مگر سماعت کا جال اب جلد بن لیا جائے

    سن لیا جائے

    میرے اطراف ایک طوفان اٹھنے والا ہے

    جو زمینوں کو یوں نگل لے گا جیسے یہ لوگ اپنے لوگوں کا خون بستہ نگل رہے ہیں

    میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں اپنی آنکھوں میں بجھ رہا ہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے