لوح دائرہ
میں دائرے پر پڑا ہوا اپنے خوں کے دھبوں کو چاٹتا ہوں
کہ میرے ہونے کا سارا الزام میرے سر ہے
لبوں کی دہلیز پر مری روح کب سے فریاد کر رہی ہے
میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں میں اپنی آنکھوں میں بجھ رہا ہوں
یہ شاہراہوں کا حادثہ ہے مگر کسی کو خبر نہیں ہے
مجھے بچا لو مجھے بچا لو
ہجوم آدم جواب دے کیا یہ کوئی صحرا ہے شہر کی رہ گزر نہیں ہے
میں پھر نہ آؤں گا میری آواز پھر نہ آئے گی
میرا اثبات پھر نہ ٹکرائے گا تمہاری بطالتوں سے
مگر مرا بال بال مقروض ہے مرے جبر آگہی کا
میں اپنی آواز کا بدن ہوں
جو چپ ہے اس کی زبان اس کے دہن میں سڑ جائے گی
میں بولوں گا اور مرا بولنا ہی میرا زیاں بھی ٹھہرے گا
میرے سینے میں جو خراشیں سلگ رہی ہیں
وہ آخر کار میری لوح مزار کا حاشیہ بنیں گی
جواب کی بستیوں کے دروازے بند ہیں اور مرا گلا خشک ہو چکا ہے
تمام انسان اپنی پرچھائیوں کو اوڑھے ہوے ہیں اور شام بہہ رہی ہے
دھند نے چوک کے بڑے برج کا مثلث نگل لیا ہے
سکوت کا زمہریر سمتوں میں گھل چکا ہے
میں ایک سنگین مجسمہ ہوں جسے بنا کر جسے خیاباں میں نصب کر کے
مجسمہ ساز اور معمار اپنا روزینہ پا چکے ہیں
میں ایک سنگیں مجسمہ ہوں
جو دھند کی طیلسان اوڑھے ہوئے ہیولوں کو تک رہا ہے
مگر سماعت کا جال اب جلد بن لیا جائے
سن لیا جائے
میرے اطراف ایک طوفان اٹھنے والا ہے
جو زمینوں کو یوں نگل لے گا جیسے یہ لوگ اپنے لوگوں کا خون بستہ نگل رہے ہیں
میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں اپنی آنکھوں میں بجھ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.