قالین باف بچے
یہ دھاگوں کی سلاخوں میں مقید زرد چہرے
یہ روتے کھانستے کمسن
جو دھندلی روشنی میں
مشقت جھیلتے ہیں
اور اپنے آنسوؤں سے کھیلتے ہیں
یہ لہراتی ہوئی رنگین بیلوں کے جو لمبے سلسلے ہیں
یہ کمسن آنسوؤں کے قافلے ہیں
عجب صناعی سے ان انگلیوں نے
جمال و فن مجسم کر دیا ہے
یہ پھولوں کی نسوں اور پتیوں میں
لہو ترتیب سے یوں بھر دیا ہے
کہ گل بوٹوں کو زندہ کر دیا ہے
یہ حسن و نازکی کا شاہپارہ
لہو آلود لمحوں کا شمارہ
یہ قدموں میں پڑا ہنستا رہے گا
مگر احساس کو ڈستا رہے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.