Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قالین باف بچے

قاسم رحمان

قالین باف بچے

قاسم رحمان

MORE BYقاسم رحمان

    یہ دھاگوں کی سلاخوں میں مقید زرد چہرے

    یہ روتے کھانستے کمسن

    جو دھندلی روشنی میں

    مشقت جھیلتے ہیں

    اور اپنے آنسوؤں سے کھیلتے ہیں

    یہ لہراتی ہوئی رنگین بیلوں کے جو لمبے سلسلے ہیں

    یہ کمسن آنسوؤں کے قافلے ہیں

    عجب صناعی سے ان انگلیوں نے

    جمال و فن مجسم کر دیا ہے

    یہ پھولوں کی نسوں اور پتیوں میں

    لہو ترتیب سے یوں بھر دیا ہے

    کہ گل بوٹوں کو زندہ کر دیا ہے

    یہ حسن و نازکی کا شاہپارہ

    لہو آلود لمحوں کا شمارہ

    یہ قدموں میں پڑا ہنستا رہے گا

    مگر احساس کو ڈستا رہے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے