ایک تأثر
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
کہ مرے دل پہ پڑا تھا کوئی غم کا سایہ
جب یہ اس ساحرۂ سحر نوا نے گایا
خواہش کیف و طرب جھوم گئی بل کھا کے
ناچ اٹھی عشرت احساس کمر لچکا کے
رہ گئی سوز تمنا کی فضا لہرا کے
ہائے وہ نغمہ کہ ہے جان جہان نغمہ
نفس نغمہ، لب نغمہ زبان نغمہ
بلکہ سچ پوچھئے تو روح و روان نغمہ
اف رے وہ لحن جسے کہئے نوا کا جھونکا
کسی تپتے ہوئے صحرا میں صبا کا جھونکا
لہلہاتی ہوئی گل ریز ہوا کا جھونکا
جس کی گونجوں سے فضا زمزمہ پرداز رہے
جس پہ فردوس کے نغمات کو بھی ناز رہے
زہرۂ چرخ بریں گوش بر آواز رہے
یارب ایسی بھی نوا دہر کے اس ساز میں تھی
یہ حلاوت بھی نہاں گیت کے انداز میں تھی
ذوق آواز کی قسمت میں یہ آواز بھی تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.