Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یاد علی گڑھ

عابد اللہ غازی

یاد علی گڑھ

عابد اللہ غازی

MORE BYعابد اللہ غازی

    وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسے

    وہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصے

    کبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کے

    محبت ہوئی تھی کسی کو کسی سے

    ہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہ

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    بہت اپنا انداز تھا لاابالی

    کبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالی

    کبھی بات میں بات یوں ہی نکالی

    سر راہ کوئی قیامت اٹھا لی

    کسی کو لڑانا کسی کو بچانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    کبھی سچی باتوں کو جھوٹا بتایا

    کبھی جھوٹی باتوں کو سچ کر دکھایا

    کبھی راز دل کہہ کے اس کو چھپایا

    کبھی دوستوں میں یوں ہی کچھ اڑایا

    بتا کر چھپانا چھپا کر بتانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    کبھی بزم احباب میں شعلہ افشاں

    کبھی یونین میں تھے شمشیر براں

    کبھی بزم واعظ میں تھے پا بہ جولاں

    بدلتے تھے ہر روز تقدیر دوراں

    جہاں جیسی ڈفلی وہاں ویسا گانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    زمانہ تھا وہ ایک حیوانیت کا

    وہ دور ملامت تھا شیطانیت کا

    ہمیں درد تھا ایک انسانیت کا

    اٹھائے علم ہم تھے حقانیت کا

    بڑھے جا رہے تھے مگر باغیانہ

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    مقابل میں آئے جسارت تھی کس کو

    کوئی روک دے بڑھ کے ہمت تھی کس کو

    پکارے کوئی ہم کو طاقت تھی کس کو

    کہ ہر بوالہوس کو تھے ہم تازیانہ

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    خیالات پر شوق کا سلسلہ تھا

    بدل دیں زمانے کو وہ حوصلہ تھا

    ہر اک دل میں پیدا نیا ولولہ تھا

    ہر اک گام احباب کا قافلہ تھا

    ادھر دعویٰ کرنا ادھر کر دکھانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    وہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکر

    وہ شمشاد بلڈنگ پہ اک شور محشر

    وہ مبہم سی باتیں وہ پوشیدہ نشتر

    وہ بے فکر دنیا وہ لفظوں کے دفتر

    کہ جن کا سرا تھا نہ کوئی ٹھکانہ

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    کسی کو ہوئی تھی کسی سے محبت

    کوئی کر رہا تھا کسی کی شکایت

    غرض روز ڈھاتی تھی تازہ قیامت

    کسی کی شباہت کسی کی ملامت

    کسی کی تسلی کسی کا ستانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    کوئی غم زدہ تھا کوئی ہنس رہا تھا

    کوئی حسن ناہید پر مر مٹا تھا

    کوئی چشم نرگس کا بیمار سا تھا

    کوئی بس یوں ہی تاکتا جھانکتا تھا

    کبھی چوٹ کھانا کبھی مسکرانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    وہ ہر جنوری میں نمائش کے چرچے

    وہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوے

    وہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کے

    وہ حسرت کہ سو بار مل کر بھی ملتے

    ہزاروں بہانوں کا وہ اک بہانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    وہ رخ آفتابی پہ ابرو ہلالی

    وہ تمثال سیمیں وہ حسن مثالی

    شگوفوں میں کھیلی گلابوں میں پالی

    وہ خود اک ادا تھی ادا بھی نرالی

    نگاہیں بچا کر نگاہیں ملا کر

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    وہ ہرچند مجھ کو نہیں جانتی تھی

    مگر میری نظروں کو پہچانتی تھی

    اگرچہ مرے دل میں وہ بس گئی تھی

    مگر بات بس دل کی دل میں رہی تھی

    مگر آج احباب سے کیا چھپانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    وہ اک شام برسات کی دن ڈھلا تھا

    ابھی رات آئی نہ تھی جھٹپٹا تھا

    وہ باد بہاری سے اک گل کھلا تھا

    دھڑکتے ہوئے دل سے اک دل ملا تھا

    نظر سن رہی تھی نظر کا فسانہ

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    جوانی اداؤں میں بل کھا رہی تھی

    کہانی نگاہوں میں لہرا رہی تھی

    محبت محبت کو سمجھا رہی تھی

    وہ چشم تمنا جھکی جا رہی تھی

    قیامت سے پہلے قیامت وہ ڈھانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    ہمیں بیتی باتیں جو یاد آ رہی تھیں

    وہ مخمور نظریں جو شرما رہی تھیں

    بہت عقل سادہ کو بہکا رہی تھیں

    بڑی بے نیازی سے فرما رہی تھیں

    انہیں یاد رکھنا ہمیں بھول جانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    اب وہ امنگیں نہ دل میں مرادیں

    اب رہ گئیں چند ماضی کی یادیں

    یہ جی چاہتا ہے انہیں بھی بھلا دیں

    غم زندگی کو کہاں تک دعا دیں

    حقیقت بھی اب بن گئی ہے فسانہ

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    علی گڑھ ہے بڑھ کر ہمیں کل جہاں سے

    ہمیں عشق ہے اپنی اردو زباں سے

    ہمیں پیار ہے اپنے نام و نشاں سے

    یہاں آ گئے ہم نہ جانے کہاں سے

    قسم دے کے ہم کو کسی کا بلانا

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    محبت سے یکسر ہے انجان دنیا

    یہ ویران بستی پریشان دنیا

    کمال خرد سے یہ حیران دنیا

    خود اپنے کیے پر پشیمان دنیا

    کہاں لے کے آیا ہمیں آب و دانہ

    بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے