Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چمکتا لمحہ

وزیر آغا

چمکتا لمحہ

وزیر آغا

MORE BYوزیر آغا

    تو لمحے کی زد سے کہاں بچ سکے گا

    یہ چمکیلا لمحہ کہ تیرے عقب میں ازل سے رواں ہے

    تجھے روند کر یوں بڑھے گا کہ جیسے

    پر کاہ سے مختلف تو نہیں ہے

    لچکتے ہوئے سرد زینے پہ پاؤں رکھے

    تو کسی ایسی منزل کی دھن میں رواں ہے

    جہاں اس لپکتے ہوئے تند لمحے کی زد سے اماں ہے

    مگر ایسی منزل کہاں ہے

    یہ لمحہ کہ خود ان گنت ساعتوں سے مرتب ہوا ہے

    یہ لمحہ کہ صورت بدل کر شب و روز میں ڈھل گیا ہے

    شب و روز اک دوسرے کے تعاقب میں بڑھتے

    مہ و سال کی ایک لمبی سی مالا بنے ہیں

    وہ مالا تری نرم گردن میں اک طوق سا بن کے اب جھولتی ہے

    یہ لمحہ یہ سیمابی چمکیلا منکا

    لپک کر تری لمبی مالا کے حلقے میں آتا ہے جس دم

    تو مالا کا بڑھتا ہوا بوجھ گردن کو تیری

    زمیں بوس ہونے پہ مجبور کرتا ہے اور تو

    بڑی بے بسی سے

    تعاقب میں آتی ہوئی موت کو دیکھتا ہے

    لچکتا ہوا سرد زینہ معاً بولتا ہے

    ترا ہات لکڑی کی باہوں سے یک دم پھسل کر

    ترے لڑکھڑاتے ہوئے جسم کو تولتا ہے

    مگر کون جانے تجھے کیا ہوا ہے

    تو اک بھیگی گٹھڑی بنا سرد زینے کے قدموں میں دم توڑتا ہے

    لپکتا ہوا تند لمحہ تجھے روند کر ایسے بڑھتا ہے جیسے

    پر کاہ سے مختلف تو نہیں ہے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے