Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میثاق نو

حنیف فوق

میثاق نو

حنیف فوق

MORE BYحنیف فوق

    ہوا سرگوشیاں کرتی ہے موسم کے بدلنے کی

    چٹختی دوپہر تپتے ہوئے ذروں سے کہتی ہے

    حصار آسماں کو توڑ کر بجلی کی تنہائی

    فزا میں ابر پاروں سے گلے ملنے کو نکلی ہے

    زمین منتظر پر رس کی بوندوں کی یہ شہنائی

    خبر دیتی چلی ہے کاروان گل کے چلنے کی

    ہوا سرگوشیاں کرتی ہے موسم کے بدلنے کی

    گھٹاؤں کے صفیرو چاہتوں کے دیس میں آؤ

    وصال خاک و باراں ارض کی کہنہ صداقت ہے

    تمازت کی تگ و دو ہے کہاں تک افتراق آرا

    عناصر کا گلے ملنا نیا میثاق الفت ہے

    زمین شرق ہے قوس قزح کا پھر سے گہوارا

    کلی کے روپ میں آؤ کنول کے بھیس میں آؤ

    گھٹاؤں کے صفیرو چاہتوں کے دیس میں آؤ

    گھٹا برسے تو دست ناز کا رنگ حنا چمکے

    ازل سے حسن کی شیریں ادائی کا مرقع ہے

    ''ہلالی ابرو'' و ''چین جبیں'' کی ناز فرمائی

    ادا کے بیت رنگیں کا ہر اک مصرع مرصع ہے

    ذرا بھیگے تو مہکے پھول سے عارض کی رعنائی

    وفا کا نام روشن ہو جمال آشنا چمکے

    گھٹا برسے تو دست ناز کا رنگ حنا چمکے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے