میثاق نو
ہوا سرگوشیاں کرتی ہے موسم کے بدلنے کی
چٹختی دوپہر تپتے ہوئے ذروں سے کہتی ہے
حصار آسماں کو توڑ کر بجلی کی تنہائی
فزا میں ابر پاروں سے گلے ملنے کو نکلی ہے
زمین منتظر پر رس کی بوندوں کی یہ شہنائی
خبر دیتی چلی ہے کاروان گل کے چلنے کی
ہوا سرگوشیاں کرتی ہے موسم کے بدلنے کی
گھٹاؤں کے صفیرو چاہتوں کے دیس میں آؤ
وصال خاک و باراں ارض کی کہنہ صداقت ہے
تمازت کی تگ و دو ہے کہاں تک افتراق آرا
عناصر کا گلے ملنا نیا میثاق الفت ہے
زمین شرق ہے قوس قزح کا پھر سے گہوارا
کلی کے روپ میں آؤ کنول کے بھیس میں آؤ
گھٹاؤں کے صفیرو چاہتوں کے دیس میں آؤ
گھٹا برسے تو دست ناز کا رنگ حنا چمکے
ازل سے حسن کی شیریں ادائی کا مرقع ہے
''ہلالی ابرو'' و ''چین جبیں'' کی ناز فرمائی
ادا کے بیت رنگیں کا ہر اک مصرع مرصع ہے
ذرا بھیگے تو مہکے پھول سے عارض کی رعنائی
وفا کا نام روشن ہو جمال آشنا چمکے
گھٹا برسے تو دست ناز کا رنگ حنا چمکے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.