آہ! حرمت الاکرام
دلچسپ معلومات
دنیائے ادب کے نامور شاعر وادیب سات کتابوں کے مصنف سید حرمت الاکرام کی اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث 6جنوری 1983 بوقت 8 بجےشب وفات ہوئی۔
بوجھ غم کا ذہن پر رنجیدہ دل آنکھیں اداس
آج کس کو سب کی آنکھیں ڈھونڈتی ہیں آس پاس
کھو گیا آخر کہاں وہ سادہ دل سادہ لباس
بات یوں کرتا تھا جیسے پھول سے آتی ہو باس
بادۂ علم و ادب کا اک انوکھا جام تھا
وہ صف اول کا شاعر حرمت الاکرام تھا
اک صحیفہ ہی نہ تھا وہ صرف مرزا پور کا
جو نہ مرجھائے وہ غالبؔ کے چمن کا پھول تھا
ہائے وہ مہر منور تھا ادب کا کیا ہوا
فکر و فن کے شہر میں کیسا اندھیرا چھا گیا
بادۂ علم و ادب کا اک انوکھا جام تھا
وہ صف اول کا شاعر حرمت الاکرام تھا
فکر کی گہرائیوں میں ڈوبنے جائے گا کون
قلزم فن سے نئے موتی بھلا لائے گا کون
عظمت فن کے لئے تا عمر غم کھائے گا کون
شہر مرزا پور کا اب نام پھیلائے گا کون
بادۂ علم و ادب کا اک انوکھا جام تھا
وہ صف اول کا شاعر حرمت الاکرام تھا
اس کے شعر و فن نے اس کو کر دیا ہے جاوداں
تا ابد روشن رہے گی اس کے فن کی کہکشاں
تھا سمندر علم کا نظم و غزل کا آسماں
ناز جس فنکار پر کرتی رہی اردو زباں
بادۂ علم و ادب کا اک انوکھا جام تھا
وہ صف اول کا شاعر حرمت الاکرام تھا
جس کے نقش پا سے روشن راہ ہوتی جائے ہے
اس کا فن بزم ادب میں رہنما کہلائے ہے
وہ خیالوں میں قلم کاروں سے کہنے آئے ہے
فن کی نبضوں میں لہو دل کا نچوڑا جائے ہے
بادۂ علم و ادب کا اک انوکھا جام تھا
وہ صف اول کا شاعر حرمت الاکرام تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.